کھیتوں سے ہیچری تک: محنت، خودداری اور بدلتی سوچ کی ایک سچی کہانی
یہ تحریر نہ کسی تعریف کے لیے ہے اور نہ ہی کسی کو کم تر دکھانے کے لیے۔ یہ صرف میری زندگی کا ایک ایسا باب ہے جسے میں فخر کے ساتھ محفوظ کرنا چاہتا ہوں، تاکہ خاص طور پر نوجوان اس سے سیکھ سکیں۔ میں ہمیشہ یہ کہتا ہوں کہ کامیابی کوئی لفٹ نہیں ہوتی جو انسان کو اچانک اوپر لے جائے، بلکہ یہ ایک سیڑھی ہے، اور جو سیڑھی کے ذریعے اوپر جاتا ہے، اس کا سفر مضبوط اور پائیدار ہوتا ہے۔
میری کہانی 1978 سے شروع ہوتی ہے، جب میں نے سولہ سال کی عمر میں میٹرک کیا۔ ہمارے گاؤں کے ماحول میں یہ ایک بڑی کامیابی سمجھی جاتی تھی۔ لوگ مبارکباد دیتے تھے، اور میرے اندر بھی ایک احساس پیدا ہو گیا تھا کہ اب شاید مجھے کوئی اچھی، باعزت دفتری نوکری ملنی چاہیے۔ اس وقت تک میں نے ٹائپنگ بھی سیکھنا شروع کر دی تھی تاکہ مستقبل میں کوئی بہتر موقع مل سکے۔
لیکن حقیقت اس تصور سے بہت مختلف تھی۔
ہم ایک ایسے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے جہاں مالی حالات کمزور تھے۔ کئی دن ایسے ہوتے تھے جب گھر میں اچھا کھانا بنتا، اور کئی دن ایسے بھی آتے تھے جب گزارہ مشکل ہو جاتا تھا۔ ایسے حالات میں یہ ممکن نہیں تھا کہ ہم بیٹھ کر کسی “مناسب موقع” کا انتظار کرتے۔ زندگی نے ہمیں سکھایا کہ پہلے قدم اٹھانا ضروری ہے، چاہے وہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو۔
میٹرک کے فوراً بعد گندم کی کٹائی کا موسم آیا، اور میں اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ کھیتوں میں مزدوری کرنے نکل گیا۔ صبح سورج نکلنے سے پہلے ہم کام شروع کرتے اور شام تک مسلسل گندم کاٹتے رہتے۔ اس کے بدلے ہمیں ایک “پلی” یا گندم کا گٹھا ملتا تھا۔ ہر مزدور کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ اپنا گٹھا زیادہ سے زیادہ بڑا باندھے تاکہ زیادہ گندم حاصل ہو سکے، چاہے بعد میں اسے اٹھانا مشکل ہی کیوں نہ ہو جائے۔
کچھ عرصے بعد ہم نے ٹھیکے پر کام شروع کیا۔ یعنی ایک ایکڑ گندم کاٹنے کا ذمہ لیتے اور اس کے بدلے ہمیں ایک من گندم ملتی۔ جب ہم نے یہ فیصلہ کیا تو ہمارے والد صاحب کو یہ بات بالکل پسند نہیں آئی۔ انہیں لگتا تھا کہ رشتہ داروں کے کھیتوں میں مزدوری کرنا ان کی عزت کے خلاف ہے۔ انہوں نے ہمیں سختی سے روکا بھی، ڈانٹا بھی۔
لیکن ہم نے فیصلہ کر لیا تھا۔
ہم نے سوچا کہ دوسروں سے آٹا ادھار مانگنے کے بجائے خود محنت کر کے کمایا جائے۔ یہ صرف پیٹ بھرنے کا معاملہ نہیں تھا، بلکہ خودداری کا سوال تھا۔
یہی وہ لمحہ تھا جب ہماری جدوجہد نے ایک نئی شکل اختیار کی۔
آہستہ آہستہ ہماری دونوں والدہ بھی ہمارے ساتھ کھیتوں میں آ گئیں۔ وہ بھی ہمارے ساتھ گندم کاٹنے لگیں۔ کچھ ہی دیر بعد والد صاحب، جو ابتدا میں ناراض تھے، وہ بھی ہمارے پاس آ گئے۔ پہلے وہ ہمیں ڈانٹتے رہے، لیکن پھر خود بھی درانتی اٹھا کر ہمارے ساتھ کام کرنے لگے۔ وہ منظر آج بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے، جب پورا خاندان ایک مقصد کے لیے اکٹھا ہو کر محنت کر رہا تھا۔
ہم دن میں گندم کاٹتے اور کئی دفعہ رات کو تھریشر پر کام کرتے۔ یہ مسلسل محنت کا دور تھا، لیکن اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم بیس سے بائیس من گندم اکٹھی کر لیتے تھے، جو پورے سال کے لیے کافی ہوتی تھی۔ اس مرحلے نے مجھے سکھایا کہ محنت اور خودداری انسان کو اندر سے مضبوط بناتی ہے۔
اس کے بعد والد صاحب مجھے لاہور لے گئے تاکہ کسی جان پہچان کے ذریعے نوکری تلاش کی جا سکے۔ ہم ایک بڑے کاروباری شخصیت سے ملنے گئے۔ ان کا دفتر میرے لیے ایک بالکل مختلف دنیا تھا۔ باہر ہم گرمی میں انتظار کرتے تھے، جبکہ اندر ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں لوگ بیٹھے ہوتے تھے۔ ہر بار جب میں ان سے ملنے جاتا، وہ مجھے کچھ دن بعد دوبارہ آنے کو کہتے، اور ساتھ ہی دو سو روپے دیتے، جو میرے آنے جانے کے اخراجات کے لیے کافی ہوتے تھے۔
چند ملاقاتوں کے بعد انہوں نے ایک چھوٹی سی پرچی لکھ کر مجھے اپنے جنرل مینیجر کے پاس بھیج دیا، اور وہاں سے مجھے ایک ہائبرڈ ہیچری میں بھیج دیا گیا۔
میں یہ سمجھ کر گیا تھا کہ شاید مجھے کوئی دفتری نوکری ملے گی۔
لیکن وہاں مجھے مزدور کی حیثیت سے کام کی پیشکش ہوئی۔
یہ میرے لیے ایک بڑا دھچکہ تھا۔
میں سوچتا تھا کہ میں نے میٹرک کیا ہے، مجھے کوئی بہتر کام ملنا چاہیے۔ پہلے چند دنوں میں میں روز یہ فیصلہ کرتا تھا کہ کل سے نہیں آؤں گا۔ لیکن ہر شام جب میں وہاں سے نکلتا تو مجھے گاؤں کی زندگی یاد آتی، جہاں صبح سے رات تک مسلسل محنت کرنی پڑتی تھی۔ اس کے مقابلے میں یہاں آٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی، ایک وقفہ، اور ایک منظم ماحول تھا۔
آخرکار میں نے فیصلہ کر لیا کہ جب تک کوئی بہتر موقع نہیں ملتا، میں یہ کام جاری رکھوں گا۔
گیارہ مئی 1981 کو میں نے بطور مزدور ہیچری میں کام شروع کر دیا۔
وہاں زندگی سادہ مگر نظم و ضبط سے بھرپور تھی۔ ہم چار سے چھ افراد ایک کمرے میں رہتے تھے، باتھ روم مشترکہ ہوتے تھے، اور ایک واضح درجہ بندی موجود تھی۔ چونکہ میں سب سے نیا تھا، اس لیے سب سے مشکل کام میرے حصے میں آیا۔
میری ذمہ داری انڈوں کی ٹرے صاف کرنا تھی۔ یہ ٹرے ٹوٹے ہوئے انڈوں اور دیگر مواد سے بھری ہوتی تھیں۔ پہلے انہیں پانی میں بھگویا جاتا، پھر برش سے رگڑ کر صاف کیا جاتا۔ یہ کام جسمانی طور پر بہت مشکل تھا، لیکن میں نے اسے پوری محنت سے کیا۔ یہاں تک کہ میں نے اپنے ایک ساتھی کے ساتھ مقابلہ شروع کر دیا کہ کون زیادہ ٹرے صاف کرتا ہے۔
آہستہ آہستہ مجھے دیگر کام بھی سیکھنے کو ملے۔ انڈوں کی چھانٹی، اچھے اور خراب انڈوں کی پہچان، اور پھر چوزوں کے نکلنے کے عمل میں مدد دینا۔ بعد میں مجھے یہ بھی سکھایا گیا کہ چوزوں میں نر اور مادہ کی پہچان کیسے کی جاتی ہے۔
یہاں ایک ایسا مرحلہ بھی آیا جو میرے لیے بہت مشکل تھا۔
اگر نر چوزے فروخت نہ ہوتے تو انہیں ضائع کرنا پڑتا تھا۔ شروع میں یہ میرے لیے بہت تکلیف دہ تھا۔ لیکن مجھے بتایا گیا کہ یہ کام کا حصہ ہے۔ اس تجربے نے مجھے یہ سکھایا کہ زندگی میں بعض ذمہ داریاں آسان نہیں ہوتیں، لیکن انہیں نبھانا پڑتا ہے۔
ہیچری نے میری سوچ کو بھی بدل دیا۔
گاؤں میں ہم نے مذہبی بنیادوں پر فاصلے دیکھے تھے۔ لیکن یہاں مسلمان اور عیسائی اکٹھے کام کرتے، کھاتے اور رہتے تھے۔ ابتدا میں میں نے اسے قبول نہیں کیا۔ میں نے الگ پانی پینا شروع کیا۔ لیکن آہستہ آہستہ میں نے دیکھا کہ یہاں انسانیت زیادہ اہم ہے۔
وقت کے ساتھ میں بھی اس ماحول کا حصہ بن گیا۔ ہم اکٹھے کھانے لگے، دوست بنے، اور ایک دوسرے کا احترام کرنا سیکھا۔ یہ میری زندگی کی ایک بڑی تبدیلی تھی۔
اسی دوران میں نے اپنی ذاتی ترقی کو بھی جاری رکھا۔ میں دن رات کام کے ساتھ ساتھ ٹائپنگ کی مشق کرتا رہا تاکہ اپنی رفتار بہتر بنا سکوں۔ میں جان چکا تھا کہ آگے بڑھنے کے لیے خود کو تیار کرنا ضروری ہے۔
میں نے تقریباً چودہ مہینے ہیچری میں کام کیا۔
آج جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ چودہ مہینے میری زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ تھے۔ انہوں نے مجھے محنت، صبر، عاجزی، اور مسلسل سیکھنے کا سبق دیا۔
میں آج بھی فخر سے کہتا ہوں کہ میں نے اپنی زندگی کا آغاز ایک مزدور کے طور پر کیا، اور مجھے اس پر کبھی شرمندگی نہیں ہوئی۔
نوجوانوں کے لیے میرا پیغام بہت واضح ہے:
کبھی بھی کسی کام کو چھوٹا نہ سمجھیں۔ کامل موقع کا انتظار نہ کریں۔ جو موقع آپ کے سامنے ہے، اسے پوری محنت اور دیانت کے ساتھ قبول کریں۔
کیونکہ کامیابی کا راستہ چھوٹے چھوٹے قدموں سے ہی بنتا ہے۔
اور جو شخص رکنے کے بجائے چلتا رہے، وہ ایک دن ضرور اپنی منزل تک پہنچتا ہے۔